بھٹکل 20؍مارچ (ایس او نیوز) ضلع شمالی کینرا میں ایک نوجوان ہندو لیڈر کے طور پر اپنی پہچان رکھنے والے کمٹہ کے سورج نائک سونی نے اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’’ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں چل رہی مرکزی حکومت میں اننت کمار ہیگڈے کی حیثیت ایک داغداروزیر کی ہے۔ اور ایسا لگتا ہے کہ انہیں وزارت کا قلمدان دینے کی وجہ سے ہی ملک میں بے روزگاری کی شرح بڑھ گئی ہے۔‘‘
سورج نائک نے مضحکہ اڑاتے ہوئے کہا کہ ’’خود اننت کمار ہیگڈے نے کہا ہے کہ خود انہیں شک ہے کہ گزشتہ چار انتخابات کے دوران ان کے اپنے والد نے ہی انہیں ووٹ دیا ہے یا نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنا بیٹا اننت کمارنالائق ہونے کی بات اب تک ان کے والد کو ہی معلوم تھی۔ اب اننت کمار کے اس بیان سے سب کو پتہ چل گیا ہے۔‘‘
سورج نائک سونی نے کہا کہ:’’ اننت کمار ایک انا پرست آدمی ہے۔ اس کو اپنی زبان پر قابو نہیں ہے۔ وہ مہاتما گاندھی کی تذلیل کرتا ہے۔ دستور بدلنے کی بات کرتا ہے۔ پچھڑے طبقات کے خلاف زبان درازیاں کرتا ہے۔ بی جے پی سے تقاضہ کیا گیا تھا کہ اس مرتبہ دوسرے کسی مناسب امیدوار کو میدان میں اتارا جائے ، لیکن پارٹی اس پر کان دھرنے کو تیار نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’ پریش میستا قتل معاملے میں خون کے ایک ایک قطرے کو انصاف دلانے کا وعدہ اننت کمار نے کیا تھا۔لیکن اننت کمار کا انصاف کہاں چلا گیا؟ سوورنا تریبھوجا نامی لاپتہ ماہی گیر کشتی کے بارے میں مرکزی وزیر کی زبان سے ایک لفظ نہیں نکل رہا ہے۔سب لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ مودی حکومت کی وجہ سے ملک میں تبدیلی آئی ہے۔لیکن ہمارے ضلع شمالی کینرا میں اننت کمار ہیگڈے کی وجہ سے یہاں وہ سب دکھائی نہیں دے رہا ہے۔سب سے زیادہ جنگلات والے اس ضلع شمالی کینرا میں جنگل واسیوں کے تحفظ کے لئے پارلیمنٹ میں ایک قانون بنایا جانا چاہیے تھا۔ لیکن اس ضمن میں کوئی کوشش نہیں کی گئی۔‘‘
سورج نائک کا کہنا تھا کہ عوام کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی گئی ہے کہ بی جے پی کے اندر ہی ہندوتوا باقی ہے۔جبکہ دیوے گوڈا،ہیچ ڈی ریونّا جیسے لیڈران اپنا قدم باہر نکالنے سے پہلے پوجا پاٹ کیا کرتے ہیں۔ کیا وہ ہندوتوا نہیں ہے؟سونی نے کہا کہ’’ پچھلے انتخابات میں لوگوں کو پاگل بناکر جیت حاصل کرنے والے اننت کمارہیگڈے پرہم لوگوں نے اعتماد کیا تھا۔مگر اب اس کی اصلیت کا ہمیں پتہ چل گیاہے۔‘‘
سورج نائک سونی نے کہا کہ پچھلی مرتبہ بنگلورو میں ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ کمار ا سوامی نے مجھ سے پوچھا تھا کہ اگر جے ڈی ایس سے ٹکٹ دیا گیا تو کیا میں الیکشن میں مقابلے پر اترنے کے لئے تیار ہوں۔ تو میں نے جواب میں کہا تھا کہ اگر موقع دیا گیا تو ضرور الیکشن لڑوں گا۔ اب اس کے لئے پارٹی میں شامل ہونا ہے یا بیرونی حمایت دیناہے اس بارے میں آگے فیصلہ کیا جائے گا۔البتہ کسی بھی حالت میں اننت کمار ہیگڈے کے خلاف کام کرنے کے لئے نوجوانوں کی ٹیمیں تیار ہوچکی ہیں۔